منگل 25 اگست 2026 - 16:34
اسلام علم و معرفت کے حصول کو انسان کے کمال تک پہنچنے کا راستہ قرار دیتا ہے

حوزہ / جامعۃ الزہرا (س) کی مدیر نے کہا: ہمارا مقصد ایسی خواتین کی تربیت ہے جو انقلاب اسلامی کے معیار پر پورا اترتے ہوئے اسلامی تمدنِ نوین کی تشکیل کے راستے میں مؤثر کردار ادا کرسکیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہمیں اپنے پروگراموں میں نظرثانی، جدت اور نئے اقدامات کی ضرورت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعۃ الزہرا (س) کی مدیر محترمہ سیدہ زہرہ برقعی نے جامعۃ الزہرا (س) کے قیام کی فلسفہ و حکمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس حوزوی ادارے کو امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی خواتین کی منظم تعلیم و تربیت کی ضرورت کے بارے میں گہری فکر کا ثمر اور انقلاب اسلامی کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔

انہوں نے کہا: آج اس دینی درسگاہ کی 42 سال کی سرگرمیوں کے بعد ضروری ہے کہ پروگراموں پر نظرثانی، حاصل شدہ کامیابیوں کا جائزہ اور حوزہ علمیہ خواہران کے درمیان باہمی ہم آہنگی کو مضبوط بنا کر انقلاب اسلامی کے معیار کی خواتین اور اسلامی جدید تمدن کی معمار خواتین کی تربیت کے راستے کو مزید سنجیدگی سے آگے بڑھایا جائے۔

مدیر جامعۃ الزہرا (س) نے کہا: خواتین کی تعلیم و تربیت اور ان کی علمی و معنوی نشوونما پر اسلامی تعلیمات میں بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ اسلام علم و معرفت کے حصول کو انسان کے کمال تک پہنچنے کا راستہ قرار دیتا ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام کی سیرت میں بھی علم حاصل کرنے اور دین میں تفقہ پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔

محترمہ سیدہ زہرہ برقعی نے مزید کہا: اسلام کی تاریخ میں بھی بہت سی خواتین نے علمی، تربیتی، سماجی اور حتیٰ کہ تمدنی میدانوں میں اہم کردار ادا کیا ہے، تاہم عصر حاضر میں علما اور مراجع عظام کی کوششوں اور خواتین کی باضابطہ تعلیم کے لیے علمی تحریکوں کے آغاز کے نتیجہ میں حوزہ علمیہ کی طالبات کے لیے دینی علوم کی تعلیم کا ایک منظم ڈھانچہ قائم کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔

اسلام علم و معرفت کے حصول کو انسان کے کمال تک پہنچنے کا راستہ قرار دیتا ہے

انہوں نے کہا: حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی حکیمانہ بصیرت کے نتیجے میں یہ تحریک ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی اور ۱۳۶۳ شمسی / 1984ء میں جامعۃ الزہرا (س) کو دینی علوم کے میدان میں خواتین کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک مرکزی ادارے کے طور پر قائم کیا گیا۔ اس اقدام کو مسلمان خواتین کی صلاحیتوں کے بارے میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی تمدنی فکر کے اہم مظاہر میں شمار کرنا چاہیے۔

جامعۃ الزہرا (س) کی مدیر نے جامعۃ الزہرا (س) کو انقلاب اسلامی اور امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی معاشرے میں عورت کے مقام اور کردار کے بارے میں اسٹریٹجک فکر کے ثمرات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا: انقلاب اسلامی نے خواتین کی علمی، سماجی اور ثقافتی میدانوں میں شرکت کے لیے نئے مواقع فراہم کیے اور اس تبدیلی کا ایک مظہر خواتین کے لیے دینی علوم کی تعلیم کا باضابطہ اور منظم پلیٹ فارم قائم کرنا تھا۔

انہوں نے کہا: امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ صرف خواتین کے لیے ایک تعلیمی مرکز کے قیام کے خواہاں نہیں تھے بلکہ ان کا مقصد ایک منظم علمی و تربیتی تحریک قائم کرنا تھا جو مسلمان خواتین کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے قابل اور باصلاحیت عالمات اور مبلغات کی تربیت کرسکے۔

انہوں نے مزید کہا: جامعۃ الزہرا (س) عالم تشیع کے لیے ایک اسٹریٹجک سرمایہ ہونے کی حیثیت سے ایسی خواتین کی تربیت کا مرکز بن سکتا ہے جو نہ صرف دین کی گہری سمجھ رکھتی ہوں بلکہ موجودہ نسل تک دین کو حکمت اور ذمہ داری کے ساتھ منتقل کرنے میں بھی پیش پیش ہوں۔ بلاشبہ اس راستے میں جامعۃ الزہرا (س) کے تمام اراکین کے تعاون و باہمی ہم آہنگی، فارغ التحصیل طالبات، اساتذہ اور ممتاز علمی شخصیات کی صلاحیتوں سے استفادہ اور امامین انقلاب کی رہنمائیوں پر سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے۔

جامعۃ الزہرا (س) کی مدیر نے آخر میں کہا: جامعۃ الزہرا (س) کے قیام کی بیالیسویں سالگرہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ثابت ہوسکتی ہے؛ ایسا مرحلہ جس میں ماضی کی کامیابیوں کا ازسرنو جائزہ اور مستقبل کی ضروریات کی درست شناخت کرتے ہوئے عالم، مؤثر اور تمدن ساز خواتین کی تربیت کے لیے مزید مضبوط اقدامات کیے جائیں۔ ایسی خواتین جو عورت و خاندان کے میدان اور اسلامی معاشرے میں مؤثر اور دیرپا کردار ادا کرسکیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha